پیٹرول 400 کے قریب ڈیزل بھی مہنگا مہنگائی کے نئے طوفان سے عوام پریشان

petron increase price

پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ: عوام پر مہنگائی کا نیا بوجھ

پاکستان میں ایک بار پھر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ کر دیا گیا ہے، جس کے بعد مہنگائی کے طوفان میں مزید شدت آنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ حکومت کی جانب سے پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل (HSD) کی قیمتوں میں فی لیٹر 26.77 روپے کا اضافہ کیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں پیٹرول کی نئی قیمت 393.35 روپے جبکہ ڈیزل کی قیمت 380.19 روپے فی لیٹر تک پہنچ گئی ہے۔

یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی مارکیٹ میں پیٹرول کی قیمتوں میں کوئی خاص اضافہ نہیں دیکھا گیا، جس سے یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ آخر یہ بوجھ عوام پر کیوں ڈالا گیا۔


قیمتوں میں اضافے کی تفصیلات

حکومتی اعلان کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 26.75 روپے سے زائد اضافہ کیا گیا، جس کے بعد اس کی قیمت 366.60 روپے سے بڑھ کر 393.35 روپے فی لیٹر ہو گئی ہے۔ اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت بھی 353.42 روپے سے بڑھ کر 380.19 روپے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے، جو کہ تقریباً 7.5 فیصد اضافہ بنتا ہے۔

ڈیزل کو معیشت کے لیے نہایت اہم ایندھن سمجھا جاتا ہے کیونکہ اس کا استعمال ٹرانسپورٹ، زراعت اور صنعتی شعبوں میں بڑے پیمانے پر ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ڈیزل کی قیمت میں اضافہ براہ راست مہنگائی میں اضافے کا سبب بنتا ہے۔


ٹیکسوں میں اضافہ اصل وجہ

پیٹرولیم ڈویژن کے حکام کے مطابق عالمی منڈی میں پیٹرول کی قیمتوں میں کوئی خاص تبدیلی نہیں آئی، لیکن حکومت نے ٹیکس بڑھا کر قیمتوں میں اضافہ کیا ہے۔ اس وقت پیٹرول پر مجموعی ٹیکس تقریباً 134 روپے فی لیٹر تک پہنچ چکا ہے، جس میں 107 روپے سے زائد پیٹرولیم لیوی شامل ہے۔

حکومت نے ایک بار پھر وہی پالیسی اپنائی ہے جس کے تحت ڈیزل پر عائد کیے جانے والے ٹیکس کا بوجھ بھی پیٹرول صارفین پر منتقل کیا جا رہا ہے۔ اس سے قبل بھی یہ فیصلہ کیا گیا تھا مگر عوامی ردعمل کے بعد واپس لینا پڑا تھا۔


پیٹرولیم لیوی میں ریکارڈ اضافہ

حالیہ فیصلے کے بعد پیٹرول پر پیٹرولیم لیوی کی شرح 107.4 روپے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔ گزشتہ ماہ حکومت نے اس لیوی کو بڑھا کر 160 روپے فی لیٹر تک کر دیا تھا، جس پر شدید تنقید ہوئی۔ بعد ازاں اسے کم کر کے 80 روپے کرنے کا اعلان کیا گیا، لیکن اب دوبارہ اس میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق حکومت نے مالی سال کے پہلے 9 ماہ میں تقریباً 1.2 کھرب روپے پیٹرولیم لیوی کی مد میں جمع کر لیے ہیں، جو سالانہ ہدف کا 82 فیصد بنتا ہے۔


آئی ایم ایف کا دباؤ

حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) کی جانب سے حکومت پر دباؤ ہے کہ پیٹرول اور ڈیزل دونوں پر 80 روپے فی لیٹر ٹیکس عائد کیا جائے۔ تاہم حکومت نے پہلے مرحلے میں ڈیزل کے بجائے پیٹرول پر ٹیکس بڑھانے کو ترجیح دی ہے۔

مزید یہ کہ آئی ایم ایف کی جانب سے ابھی بھی 53 روپے فی لیٹر اضافی ٹیکس لگانے کا تقاضا باقی ہے، جس پر آئندہ ہفتے فیصلہ متوقع ہے کہ یہ بوجھ پیٹرول صارفین پر ڈالا جائے گا یا ڈیزل استعمال کرنے والوں پر۔


وزیرِ پیٹرولیم کا مؤقف

وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے اپنے بیان میں کہا کہ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں دوبارہ اضافہ ہو رہا ہے، جس کی بڑی وجہ خطے میں کشیدگی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت عالمی معاہدوں اور بڑھتی قیمتوں کے دباؤ کے باعث مجبور ہے کہ عوام تک یہ بوجھ منتقل کرے۔

انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نے جہاں تک ممکن تھا قیمتوں میں اضافے کو برداشت کیا، اور عوام کو ریلیف دینے کے لیے مختلف اقدامات بھی کیے گئے ہیں۔


عوام پر اثرات

پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ براہ راست عام آدمی کی زندگی کو متاثر کرے گا۔ خاص طور پر موٹر سائیکل استعمال کرنے والے افراد، جو عموماً متوسط یا کم آمدنی والے طبقے سے تعلق رکھتے ہیں، اس اضافے سے سب سے زیادہ متاثر ہوں گے۔

اسی طرح ٹرانسپورٹ کے کرائے بڑھنے کا خدشہ ہے، جس کے نتیجے میں اشیائے خوردونوش سمیت دیگر ضروریات زندگی کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔


ڈیزل اور مہنگائی کا تعلق

ڈیزل کو مہنگائی کا بنیادی سبب سمجھا جاتا ہے کیونکہ اس کا استعمال مال برداری، زراعت اور صنعتوں میں ہوتا ہے۔ جب ڈیزل مہنگا ہوتا ہے تو اس کے اثرات پورے سپلائی چین پر پڑتے ہیں، جس سے اشیاء کی قیمتیں بڑھ جاتی ہیں۔

اگرچہ موجودہ قیمتیں ماضی کی بلند ترین سطح 520 روپے فی لیٹر سے کم ہیں، تاہم موجودہ اضافہ بھی عوام کے لیے کسی جھٹکے سے کم نہیں۔


ترقیاتی بجٹ میں کمی

حکومت نے اس سے قبل پیٹرولیم لیوی میں کمی کے اثرات کو کم کرنے کے لیے وفاقی ترقیاتی بجٹ میں 17 فیصد یا 173 ارب روپے کی کٹوتی بھی کی تھی۔ اس اقدام کا مقصد جزوی سبسڈی فراہم کرنا تھا، لیکن اب دوبارہ قیمتوں میں اضافہ اس پالیسی کو غیر مؤثر بنا رہا ہے۔


دیگر پیٹرولیم مصنوعات میں کمی

جہاں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا ہے، وہیں مٹی کے تیل اور لائٹ ڈیزل آئل کی قیمتوں میں کمی کی گئی ہے۔

مٹی کے تیل کی قیمت 429 روپے سے کم ہو کر 365 روپے فی لیٹر ہو گئی ہے، یعنی اس میں 63.6 روپے فی لیٹر کمی کی گئی ہے۔ اسی طرح لائٹ ڈیزل آئل کی قیمت 299 روپے سے کم ہو کر 270 روپے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے، جو 29 روپے کی کمی ہے۔


کلائمیٹ لیوی میں مزید اضافہ متوقع

آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کے تحت حکومت کو کلائمیٹ سپورٹ لیوی میں بھی اضافہ کرنا ہوگا۔ اس وقت یہ لیوی 2.5 روپے فی لیٹر ہے، جسے یکم جولائی سے بڑھا کر 5 روپے فی لیٹر کرنے کا امکان ہے۔


حکومت کی مشکلات اور چیلنجز

حکومت ایک طرف آئی ایم ایف کے سخت شرائط کا سامنا کر رہی ہے، جبکہ دوسری جانب عوامی دباؤ بھی بڑھ رہا ہے۔ حکومتی نمائندے تاحال آئی ایم ایف کو شرائط نرم کرنے پر قائل نہیں کر سکے، جس کے باعث عوام پر ٹیکسوں کا بوجھ بڑھتا جا رہا ہے۔


نتیجہ

پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ ایک بار پھر اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ پاکستان کی معیشت بیرونی دباؤ اور اندرونی پالیسیوں کے درمیان پھنسی ہوئی ہے۔ عوام پہلے ہی مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں، اور اس نئے اضافے سے ان کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگا۔

اگر فوری طور پر کوئی متوازن پالیسی نہ اپنائی گئی تو آنے والے دنوں میں مہنگائی مزید بڑھ سکتی ہے، جس کے اثرات معیشت کے ہر شعبے پر پڑیں گے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top