
کراچی میں لیتھیم بیٹری پلانٹ کا قیام — پاکستان میں صاف توانائی کی جانب بڑا قدم
پاکستان میں صاف توانائی (Clean Energy) اور الیکٹرک وہیکلز کے فروغ کے لیے ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں کراؤن گروپ نے کراچی کے علاقے پورٹ قاسم میں لیتھیم بیٹری بنانے کا پلانٹ قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ منصوبہ نہ صرف مقامی سطح پر توانائی ذخیرہ کرنے کے جدید حل فراہم کرے گا بلکہ ملک میں قابلِ تجدید توانائی (Renewable Energy) کے شعبے کو بھی مضبوط بنائے گا۔
منصوبے کی تکمیل اور متوقع آغاز
کراؤن سولر انرجی اور کراؤن الیکٹرک موبیلٹی کے جی ایم سیلز اینڈ مارکیٹنگ محمد زبیر کے مطابق یہ پلانٹ تقریباً 80 فیصد مکمل ہو چکا ہے اور آئندہ ایک سے دو ماہ میں باقاعدہ طور پر کام شروع کر دے گا۔ انہوں نے یہ بات لاہور میں منعقد ہونے والی “سولر پاکستان 2026” نمائش کے دوران ایک خصوصی گفتگو میں بتائی۔
لیتھیم بیٹریز کی مقامی پیداوار
اس پلانٹ میں خاص طور پر لیتھیم آئرن فاسفیٹ (LFP) بیٹریز تیار کی جائیں گی، جو الیکٹرک گاڑیوں اور سولر سسٹمز دونوں کے لیے استعمال ہوتی ہیں۔ ابتدائی مرحلے میں ہر ماہ 5,000 سے 8,000 بیٹریز تیار کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے، جبکہ سالانہ پیداواری صلاحیت تقریباً 120,000 بیٹریز تک پہنچ سکتی ہے۔
مارکیٹ کی طلب بڑھنے کے ساتھ ساتھ اس پیداوار میں مزید اضافہ بھی متوقع ہے، جو پاکستان میں توانائی کے شعبے کے لیے ایک مثبت اشارہ ہے۔
روزگار کے نئے مواقع
اس منصوبے کے ذریعے تقریباً 250 سے 300 افراد کو روزگار کے مواقع بھی فراہم کیے جائیں گے، جو ملکی معیشت کے لیے ایک خوش آئند قدم ہے۔ تاہم، کمپنی کے مطابق بیٹری سیلز پاکستان میں تیار نہیں کیے جائیں گے، بلکہ دیگر متعلقہ مصنوعات مقامی سطح پر تیار ہوں گی۔
توانائی بحران اور حکومتی اہداف
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان بڑھتی ہوئی توانائی قیمتوں اور درآمدی ایندھن پر انحصار جیسے مسائل کا سامنا کر رہا ہے۔ حکومت نے قابلِ تجدید توانائی کے فروغ کے لیے بڑے اہداف مقرر کیے ہیں، جن کے مطابق 2025 تک 40 فیصد اور 2030 تک 60 فیصد بجلی گرین انرجی سے حاصل کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔
کراؤن گروپ کی حکمت عملی
کراؤن گروپ گزشتہ 25 سال سے پاکستان میں کام کر رہا ہے اور اب خود کو توانائی کے جدید شعبے میں ایک اہم کھلاڑی کے طور پر منوانا چاہتا ہے۔ کمپنی کا کاروباری دائرہ کار سولر پینلز، انورٹرز، الیکٹرک وہیکلز اور لیتھیم بیٹریز تک پھیلا ہوا ہے۔
محمد زبیر کے مطابق کمپنی صرف تجارت تک محدود نہیں بلکہ تحقیق و ترقی (R&D) پر بھی توجہ دے رہی ہے، جو پاکستان میں ہی کی جا رہی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ کمپنی کا آفٹر سیلز نیٹ ورک بھی ملک بھر میں موجود ہے۔
الیکٹرک وہیکلز میں توسیع
کراؤن گروپ اپنی الیکٹرک موبیلٹی برانچ کے تحت بھی تیزی سے ترقی کر رہا ہے۔ اس وقت کمپنی کے پاس 12 مختلف الیکٹرک وہیکل ماڈلز موجود ہیں، جن کی پاور 1000 واٹ سے 3000 واٹ تک ہے اور ایک چارج پر 70 کلومیٹر سے 200 کلومیٹر تک کا سفر طے کر سکتے ہیں۔ یہ تمام گاڑیاں لیتھیم بیٹری ٹیکنالوجی پر چلتی ہیں۔
مستقبل کے منصوبے
آنے والے وقت میں کراؤن گروپ مختلف کمپنیوں کے ساتھ شراکت داری (OEM Partnerships) اور مارکیٹ میں مزید تعاون کے مواقع تلاش کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ تاہم، فی الحال کمپنی کی اولین ترجیح مقامی طلب کو پورا کرنا ہے۔


