کیا پاکستان میں پیٹرول 30 روپے فی لیٹر ہو سکتا ہے

img 20260420 012537

کیا پاکستان میں پیٹرول واقعی 30 روپے فی لیٹر ہو سکتا ہے؟ 

پاکستان میں پیٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے درمیان معروف ماہرِ معاشیات Atif Mian کے ایک بیان نے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ان کے مطابق، اگر درست پالیسی اپنائی جائے تو سفری لاگت کو کم کر کے اسے تقریباً 30 روپے فی لیٹر کے برابر لایا جا سکتا ہے۔

اصل بات پیٹرول نہیں، سفری لاگت ہے

سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر اپنے بیان میں عاطف میاں نے واضح کیا کہ لوگ دراصل پیٹرول نہیں بلکہ سفر (Transportation) خریدتے ہیں۔ ان کے مطابق یہی سفر سستی توانائی کے ذریعے بھی ممکن ہے، خاص طور پر الیکٹرک گاڑیوں کے ذریعے۔

انہوں نے مثال دیتے ہوئے بتایا کہ ایک عام موٹر سائیکل تقریباً 60 کلومیٹر فی لیٹر چلتی ہے، جبکہ ایک الیکٹرک اسکوٹر اتنا ہی فاصلہ تقریباً 2 کلوواٹ آور (kWh) بجلی سے طے کر سکتا ہے۔

سولر انرجی: پاکستان کے لیے بڑا موقع

عاطف میاں کے مطابق پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں سولر انرجی بہت سستی پیدا کی جا سکتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ شمسی توانائی سے بجلی تقریباً 5 سینٹ فی kWh میں حاصل کی جا سکتی ہے۔

اگر اسی بجلی کو الیکٹرک گاڑیوں میں استعمال کیا جائے تو سفری خرچ تقریباً 30 روپے فی لیٹر پیٹرول کے برابر بنتا ہے، جو موجودہ قیمتوں کے مقابلے میں بہت کم ہے۔

مہنگا پیٹرول: پالیسی کی ناکامی؟

ماہرِ معاشیات نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ 300 روپے اور 30 روپے کے فرق کی بڑی وجہ معاشی حقیقت نہیں بلکہ غلط پالیسی فیصلے ہیں۔ ان میں شامل ہیں:

مہنگے درآمدی ایندھن پر انحصار

ڈالر سے منسلک بجلی کے منصوبے

سولر اور الیکٹرک گاڑیوں کے انفراسٹرکچر کی کمی

اربوں ڈالر بچانے کا موقع

عاطف میاں کے مطابق پاکستان ہر سال اربوں ڈالر ایندھن کی درآمد پر خرچ کرتا ہے۔ اگر یہی سرمایہ درج ذیل شعبوں میں لگایا جائے تو معیشت کو فائدہ ہو سکتا ہے:

EV چارجنگ اسٹیشنز

بیٹری سوئپنگ سسٹمز

سمارٹ بجلی کے ریٹس

اس سے نہ صرف اخراجات کم ہوں گے بلکہ روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔

چھوٹے کاروباروں کے لیے سنہری موقع

انہوں نے اس بات کی نشاندہی بھی کی کہ سولر انرجی کی خاصیت یہ ہے کہ اسے چھوٹے پیمانے پر بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس سے:

مقامی سطح پر بجلی پیدا کر کے بیچی جا سکتی ہے

بیٹری سسٹمز ایک مکمل انڈسٹری بن سکتے ہیں

صاف توانائی اور بہتر مستقبل

عاطف میاں کا کہنا ہے کہ سستی اور مؤثر بجلی کے استعمال سے:

صارفین کے اخراجات کم ہوں گے

فضائی آلودگی میں کمی آئے گی

توانائی کی طلب متوازن رہے گی

معیشت مستحکم ہوگی

انہوں نے ماضی کی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ روایتی ایندھن اور پرانے آٹو سیکٹر کو ترجیح دینے کی وجہ سے جدید ٹیکنالوجی کی ترقی سست رہی۔

عوامی ردعمل

اس بیان پر عوامی ردعمل ملا جلا رہا۔ کچھ لوگوں نے اسے ایک مثبت اور جدید سوچ قرار دیا، جبکہ کچھ کا کہنا ہے کہ یہ بیان گمراہ کن ہے کیونکہ بات دراصل پیٹرول کی قیمت نہیں بلکہ الیکٹرک سفری لاگت کی ہو رہی ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top